Posted on

برفباری میں سیاحت سے قبل کون سی تیاری لازمی ہے؟

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادیوں اور پہاڑوں نے برف کی سفید چادر اوڑھی تو کوئی چھٹیوں سے محظوظ ہونے کے لیے سفر پر نکلا اور کسی نے سوشل ٹائم لائنز پر برفباری کی تصاویر دیکھ کر ان علاقوں کا رخ کیا۔ ایسے میں اکیلے، دوستوں یا اہلخانہ کے ساتھ برفباری والے علاقوں کی سیاحت تفریح کے ساتھ کچھ مسائل کا باعث بھی رہی ہے۔
ونٹر ٹوورازم کے دلدادہ افراد کے لیے محکمہ موسمیات کی یہ اطلاع بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے بالائی علاقوں میں برفباری کا دوسرا سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر فورکارسٹنگ غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ برفباری کا حالیہ سلسلہ اتوار تک جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سپیل میں مری سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں نو تا 12 انچ برفباری ہوئی تھی، اس مرتبہ یہ سطح ایک فٹ سے اوپر جانے کا امکان موجود ہے۔ جس کی وجہ سے متعدد علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، سڑکیں بلاک ہونے جیسے مسائل پیش آ سکتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق مری، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور دیر، سوات چترال سے لے کر گلگت بلتستان تک برفباری کا نیا سلسلہ جاری رہے گا۔
برفیلے علاقوں میں سفر کے دوران ٹائروں پر چین استعمال کی جائے (فوٹو: ویڈیو گریب)
برفباری کے دوران ونٹر ٹوورازم کے دلدادہ افراد خود کو اور اپنے پیاروں کو طبی اور دیگر مسائل سے بچنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

ونٹر ٹووورازم کے دوران کیا احتیاط کی جائے؟

مری کے راستے میں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے ذمہ دار پولیس دستے سے وابستہ ایس پی او ہارون انور کہتے ہیں کہ سیاحت کی خاطر ان علاقوں کا رخ کرنے والوں کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں، ٹول پلازوں پر موجود سٹاف بھی وہاں سے گزرنے والوں کو ان سے متعلق بریف کرتا ہے۔
ہارون انور کا کہنا تھا کہ سب سے بہتر ہے کہ برفباری شروع ہوتے ہی یا اس کے دوران بلائی علاقوں کا رخ نہ کیا جائے۔ اگر اس دوران جانا ہو تو کوشش کریں کہ فیملی کے ہمراہ نہ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سفر پر نکلتے ہوئے یقینی بنایا جائے کہ گاڑی کے ٹائر درست حالت میں ہوں، برفباری والے علاقوں میں پہنچ کر ٹائروں میں ہوا کا دباؤ معمول سے کم رکھا جائے۔ گرم کپڑے اور ٹائروں پر چڑھانے کے لیے چین ساتھ رکھی جائے۔ ڈرائیوںگ کے دوران گاڑی چھوٹے گیروں میں چلائی جائے اور اگر آپ کی گاڑی سلپ ہو تو بریک کا استعمال نہ کیا جائے۔
مری سمیت دیگر علاقوں میں ٹریفک جام کی شکایت سامنے آ سکتی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)
بالائی علاقوں میں بعض اوقات لینڈسلائیڈنگ یا ٹریفک جام کی وجہ سے بہت زیادہ وقت گاڑی میں گزارنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے، ایسے کیفیت میں پریشانی سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ گرم لباس کے علاوہ کمبل یا گرم چادریں بھی ہمراہ رکھی جائیں۔
پہاڑی علاقوں میں جاتے ہوئے گاڑی کا فیول ٹینک فل رکھنا، اضافی ٹائر ہمراہ رکھنا، ٹائر پنکچر ہونے کی صورت میں تبدیلی کے لیے درکار اوزار اور ہوا بھرنے کے لیے گاڑی کی بیٹری سے چلنے والے چھوٹے پمپ کی موجودگی بھی مفید ہے۔
جس علاقے میں جا رہے ہوں گوگل میپ یا ٹریفک پولیس کے متعلقہ چینلز پر وہاں کی ٹریفک کی صورتحال، راستوں کے کھلے اور بند ہونے کی کیفیت سے آگاہی حاصل کر لی جائے۔
ہارون انور کے مطابق اس وقت مری کی جانب جانے والے راستے کھلے ہیں تاہم اندرونی علاقے میں بہت زیادہ گاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے ٹریفک جام جیسی صورتحال ہو سکتی ہے۔

ونٹرٹوورازم کے دوران کون سی طبی احتیاطیں ضروری ہیں؟

ٹھنڈے بالائی علاقوں کی سیر کے دوران بعض اوقات نئے موسم کا سامنا کرنا طبیعت کی خرابی کا باعث بھی بنتا ہے۔ ایسے میں پریشانی یہ ہوتی ہے کہ خود کو بیماری سے بچا کر تفریح کا مزا کرکرا کرنے سے کیسے روکا جائے؟
محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑ سکتی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے فیملی فزیشن ڈاکٹر آصف توصیف کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچے اور بزرگوں کو برفباری والے علاقوں میں نہ لے کر جایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفر پر نکلتے ہوئے اپنے ہمراہ گرم کپڑوں کے ساتھ کمبل اور اضافی موزے بھی ضرور رکھے جائیں۔ راستے میں کسی جگہ اگر ٹریفک جام کی وجہ سے گھنٹوں گاڑی تک محدود ہونا پڑے تو کمبل اور پیدل چلنا پڑے تو اضافے موزے طبیعت کی خرابی سے بچا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر آصف توصیف کے مطابق بالائی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے عام جوتوں کے بجائے ربرسول والے مخصوص جوتے استعمال کیے جائیں، اگر عام جوتے استعمال کر رہے ہوں تو ان پر پلاسٹک کی تھیلی چڑھا کر اوپر موزا لپیٹ لیں تاکہ پانی جوتے کے اندر داخل نہ ہو اور پھسلنے سے بھی بچا جا سکے۔
بالائی علاقوں کی سیاحت کے دوران طبیعت خراب ہو تو بروفن استعمال نہ کی جائے (فوٹو: ٹوئٹر)
سرد موسم کی وجہ سے طبیعت کی معمولی خرابی سے نمٹنے کے لیے پیناڈول اور وکس وغیرہ ساتھ رکھنے اور ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے کی تجویز دینے والے معالج کا کہنا تھا کہ چونکہ ان دنوں ڈینگی اور کورونا وبا کا زور ہے، اس لیے کوشش کریں کہ درد کی شکایت محسوس ہونے پر بروفن نہ لیں، اس سے خون جاری ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی احتیاطوں کے باوجود طبیعت کی خرابی کی شکایت ہو تو اپنے فیملی فزیشن سے رابطے میں رہیں یا 1122 پر کال کر ہنگامی طبی خدمات حاصل کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *